Welcome to Sagar Pardesi's World | خوش آمدید: ساگر پردیسی کی قلمی دنیا میں
شہروں کے فاصلے تو مٹ جاتے ہیں، مگر رشتوں کے درمیان بننے والی یہ "ڈرامائی دیواریں" اتنی گہری اور پیچیدہ ہوتی ہیں کہ ان کی پیمائش ممکن ہی نہیں ہوتی۔ زندگی کے سفر میں بندہ کتنی ہی میل کیوں نہ طے کر لے، جب تک رشتوں کا سفر ایمانداری سے نہ ہو، پتہ ہی نہیں چلتا کہ ہم منزل پر کھڑے ہیں یا راہ بھٹک چکے ہیں۔ آج کل ہر گھر میں کچھ ایسے رشتہ دار ضرور ہوتے ہیں جو محبت کے لبادے میں مفاد کی سیاست کر رہے ہوتے ہیں۔
سب سے تکلیف دہ پہلو وہ "جھوٹا بیانیہ" ہے جس میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ "ہم نے تو تم میں اور اپنے سگے بہن بھائیوں میں کبھی کوئی فرق نہیں کیا"۔ سچ تو یہ ہے کہ جو لوگ بار بار یہ جتلانے پر مجبور ہوں، اصل میں وہی فرق کی بنیاد رکھ رہے ہوتے ہیں۔ یہ جملہ دراصل ایک ڈھال ہے، جس کے پیچھے چھپ کر وہ آپ کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا چاہتے ہیں۔ دراصل بات یہ ہے کہ جب تک آپ حق کی بات نہیں کرتے اور ان کی ہر "ہاں" میں "ہاں" اور "جی" میں "جی" ملاتے رہو گے، تب تک آپ ان کے لیے سب سے پیارے ہو۔ لیکن جیسے ہی آپ سچ کا راستہ چنتے ہیں، تو افسوس کہ وہ رشتے آپ سے کھو جاتے ہیں، کیونکہ ان کا رشتہ آپ کی شخصیت سے نہیں، بلکہ آپ کی خاموشی اور ان کی مرضی کے تابع رہنے سے تھا۔
جب آپ ان کی ہر بات مانتے رہیں، تب تک آپ "سگا بھائی" ہوتے ہیں، لیکن جوں ہی آپ اپنی خودداری دکھائیں تو فوراً آپ کو طعنہ دیا جاتا ہے کہ "تم بدل گئے ہو"۔ یہ کتنا عجیب تضاد ہے کہ خود وہ رشتہ دار، جو آپ کو ہر موڑ پر پرایا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، الزام آپ پر تھوپ دیتے ہیں کہ فرق آپ کر رہے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی گاڑی کا اسٹیرنگ خود تھام کر، غلط راستے پر گاڑی چلائے اور الزام مسافر پر لگا دے کہ وہ کیوں خاموش ہے؟
پردیس میں بیٹھا بندہ جب ان باتوں کو سنتا ہے، تو اسے دکھ اس بات کا نہیں ہوتا کہ انہوں نے کیا کہا، بلکہ اس کا ہوتا ہے کہ برسوں کا ساتھ اور خلوص، ان کی اس ایک "جتلانے والی" ادا کے آگے کتنا بے بس ہے۔ سچے رشتے کبھی جتلائے نہیں جاتے، وہ تو عمل سے جھلکتے ہیں۔ جن رشتوں میں "میں نے تیرے لیے یہ کیا" کا حساب کتاب ہو، وہ رشتے نہیں بلکہ سودے بازی ہوتی ہے۔
آج میں یہ سمجھ گیا ہوں کہ جو لوگ آپ کو بار بار یہ باور کروائیں کہ "ہم نے تمہیں کبھی پرایا نہیں سمجھا"، دراصل وہ اپنی کمزوری چھپانے کے لیے آپ کو ایک ایسا رشتہ دار بنا کر رکھنا چاہتے ہیں جو ان کی ہر بات پر سر تسلیمِ خم کرے۔ پردیس کی زندگی نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ اب ان نقلی کرداروں کو اسٹیج سے اتار کر، ان کو حقیقت کی سڑک پر چلنا سکھایا جائے۔ اب اس سفر میں جو ساتھ چلے گا، وہی میرا ہے، اور جو اپنی ڈرامہ سازی کے شور میں ہی مگن رہے گا، اسے اس کی اپنی منزل پر چھوڑنا ہی بہتر ہے۔
آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ اپنی قیمتی رائے سے ضرور آگاہ کیجیے گا۔ آپ کے تبصروں کا شدت سے انتظار رہے گا۔
فقط، آپ کی دعاؤں کا طلبگار، ساگر پردیسی
ReplyDelete*_Your stories on the website are really amazing, and it’s so much fun to read them.
We hope you will write and upload even more stories with more suspense in the future._*
Wah kia khoob likha ha ap ne ap ki baton mein bht drd mehsoos hua ha
ReplyDelete