Welcome to Sagar Pardesi's World | خوش آمدید: ساگر پردیسی کی قلمی دنیا میں
گھر کے صحن میں لگے نیم کے درخت کی چھاؤں آہستہ آہستہ سمٹ رہی تھی۔ زینب نے اپنی چادر کا پلو درست کیا اور دروازے کی طرف دیکھا، جہاں سے اب بھی کسی کے آنے کی امید نہیں تھی۔ اس کے ہاتھ میں موبائل فون تھا، جس کی سکرین پر اسے وہی دو سال پرانی تصویر نظر آ رہی تھی، جس میں احمد نے مسکرا کر اسے الوداع کہا تھا۔
پردیس کی زندگی بہت کٹھن ہوتی ہے۔ احمد نے جب گھر چھوڑا تھا تو زینب کی آنکھوں میں آنسو تھے، لیکن اس نے اپنے شوہر کے خوابوں کی خاطر ان آنسوؤں کو پلکوں میں ہی قید کر لیا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ یہ جدائی محض چند سالوں کی ہے، مگر دل تھا کہ مانتا ہی نہ تھا۔
پردیس میں احمد دن رات ایک کر کے محنت کرتا تاکہ اپنے گھر کو ہر آسائش دے سکے۔ کبھی کبھی تو مہینوں گزر جاتے، پردیس کی مصروفیت ایسی کہ بات کرنے کا وقت بھی بڑی مشکل سے ملتا۔ فون پر جب بھی بات ہوتی، احمد کا پہلا سوال یہی ہوتا، "زینب، گھر میں کوئی کمی تو نہیں؟" اور زینب مسکرا کر کہتی، "سب ٹھیک ہے، بس آپ کی کمی ہے، جو اب میری عادت بن گئی ہے۔"
لیکن اس "سب ٹھیک ہے" کے پیچھے چھپا کرب صرف زینب کا دل ہی جانتا تھا۔ وہ اکثر راتوں کو بچوں کو سلا کر کھڑکی کے پاس بیٹھ جاتی۔ جب شہر کی روشنیاں ماند پڑ جاتیں، تو وہ دور آسمان پر چمکتے تاروں سے باتیں کرتی۔ اسے لگتا تھا کہ شاید احمد بھی اسی وقت انہی تاروں کو دیکھ رہا ہوگا اور وہی ٹھنڈی ہوا جو اس کے چہرے کو چھو رہی ہے، وہی ہوا احمد کے ماتھے کا پسینہ بھی صاف کر رہی ہوگی۔ وہ اکثر احمد کے پہنے ہوئے کپڑوں کو سینے سے لگا کر سوتی، جیسے اس میں احمد کی خوشبو قید ہو۔
خاموش قربانی
ایک بار جب بچہ بیمار ہوا اور رات بھر تیز بخار میں تڑپتا رہا، زینب نے احمد کو فون نہیں کیا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہاں وہ بے بس ہو جائے گا۔ اس نے پوری رات بچے کو گود میں لیے، اس کے سر پر ٹھنڈی پٹیاں رکھتے ہوئے اسے دعاؤں میں گزار دی۔ وہ کبھی بچے کو سینے سے لگاتی تو کبھی اسے سکون دینے کے لیے اسے تھپتھپاتی۔ صبح جب بخار اترا تو اس نے آئینے میں خود کو دیکھا، اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں اور چہرے پر تھکن کے آثار تھے۔ مگر جب احمد کی ویڈیو کال آئی، تو اس نے کمال ضبط سے چہرے پر مسکراہٹ سجائی اور ایسے بات کی جیسے وہ دنیا کی سب سے خوش قسمت عورت ہو۔ یہی تو وہ پردیسی کی بیوی کا اصل امتحان ہے، جہاں وہ اپنی تکلیف چھپا کر اپنوں کے حوصلے بلند رکھتی ہے۔

صبر کا پھل
اکثر لوگ زینب سے پوچھتے، "تمہیں اکیلے پن کا ڈر نہیں لگتا؟" تو وہ صرف مسکرا کر کہتی، "جو اپنی محبت کی خاطر گھر بار چھوڑ دے، اس کے لیے تھوڑا سا صبر تو میرا حق بنتا ہے۔" اس کی زندگی کا ہر دن اس امید پر گزرتا تھا کہ ایک دن احمد کا فون آئے گا اور وہ کہے گا، "زینب، میں واپس آ رہا ہوں، اب اور دور نہیں رہنا۔"
وہ دن بالآخر آیا۔ ایک صبح جب فون کی گھنٹی بجی تو احمد کی آواز میں وہ خوشی تھی جو برسوں سے کھوئی ہوئی تھی۔ "زینب! ٹکٹ کنفرم ہو گیا ہے، میں گھر آ رہا ہوں۔" اس وقت زینب کو لگا کہ جیسے اس کی زندگی کی ساری تھکن ایک لمحے میں اتر گئی ہے۔ اس نے گھر کو ایسے سجایا جیسے کوئی عید کا تہوار ہو۔
جب احمد دروازے پر پہنچا اور زینب نے اسے سامنے دیکھا، تو آنکھوں سے آنسوؤں کی ایک لڑی سی بہہ نکلی۔ یہ آنسو دکھ کے نہیں تھے، یہ اس صبر، اس قربانی اور اس وفا کی جیت کے تھے جو ایک پردیسی کی بیوی برسوں خاموشی سے نبھاتی رہی تھی۔ احمد نے اسے گلے لگایا تو دونوں کی خاموشی میں برسوں کا انتظار سمٹ آیا تھا۔ محبت واقعی ساتھ رہنے کا نام نہیں، بلکہ دوریوں میں بھی ایک دوسرے کے لیے جی جانے کا حوصلہ رکھنے کا نام ہے۔

حاصلِ کلام:
محبت صرف ساتھ رہنے کا نام نہیں، بلکہ دوریوں کو خلوص اور صبر کے ساتھ نبھانے کا نام ہے۔ اس کہانی کا نچوڑ یہ ہے کہ پردیسی کی بیوی کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ اپنی تنہائی اور تکالیف کو چھپا کر اپنے شوہر کے لیے ہمت اور حوصلے کا ذریعہ بنتی ہے۔ سچی محبت وہ ہے جو فاصلوں کی دیواروں کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہنے کا یقین دلائے۔ جب دو لوگ ایک دوسرے کی مجبوریوں کو سمجھیں اور ان کا بوجھ بانٹیں، تو دوری ان کے جذباتی تعلق کو کمزور نہیں کر سکتی، بلکہ اسے مزید گہرا کر دیتی ہے۔ مختصر یہ کہ جدائی جسموں میں ہوتی ہے، دلوں میں نہیں، اور وفا ہی وہ رشتہ ہے جو دو روحوں کو ہزاروں میل دور بیٹھ کر بھی ایک دوسرے کے قریب رکھتا ہے۔
Sagar pardesi good poetry and good story and good life
ReplyDelete