​ Welcome to Sagar Pardesi's World | خوش آمدید: ساگر پردیسی کی قلمی دنیا میں

Image
اردو Roman Urdu English خوش آمدید! السلام علیکم تمام قارئین! ہماری اس ڈیجیٹل دنیا میں آپ کو خوش آمدید ۔ میرا نام حنیف ہے اور ادبی دنیا میں لوگ مجھے ساگر پردیسی کے نام سے جانتے ہیں۔ آج سے ہم اپنے اس تحریری سفر کا باقاعدہ آغاز کر رہے ہیں۔ ہماری یہ کوشش ہوگی کہ یہاں آپ کو تمام تحریریں اردو، رومن اردو اور انگلش تینوں زبانوں میں پڑھنے کو ملیں، تاکہ ہر قاری اپنی پسندیدہ زبان میں ہمارے خیالات سے لطف اندوز ہو سکے۔ یہاں آپ کو ہمارے لکھے ہوئے مختلف مشاہدات، دل کو چھو لینے والی شاعری، شاندار اسٹیٹس اور زندگی کے بارے میں گہرے خیالات ملیں گے۔ ہمارا مقصد اپنی تحریروں کے ذریعے انسانی جذبات، سفر کی حقیقتوں اور معاشرے کے ان پہلوؤں کو سامنے لانا ہے جو اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ یہ تحریری سفر محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ہمارے احساسات کا ایک آئینہ ہے۔ امید ہے کہ ہمارا یہ سفر آپ سب کے لیے دل چسپ ثابت ہوگا۔ آپ کی رائے اور تبصروں کا ہمیں ہمیشہ ان...

پردیس کی وہ خالی کرسی

پردیس کے چھوٹے کمرے میں رکھی وہ خالی لکڑی کی کرسی - © sagarpardesi.com

پردیس کی وہ خالی کرسی

​پردیس میں انسان صرف پیسہ کمانے نہیں آتا  بلکہ وہ یہاں روزانہ اپنی انا  اپنے جذبات اور اپنی خواہشات کی قربانی بھی دیتا ہے  وطن سے دور اپنوں کی یادوں کے سہارے جینا کتنا مشکل ہے  یہ صرف ایک پردیسی ہی سمجھ سکتا ہے۔ آج میں آپ کو اپنے قیامِ پردیس کے دوران پیش آنے والا ایک ایسا واقعہ سناتا ہوں جس نے میری زندگی کی سوچ بدل دی۔

​ایک چھوٹے سے کمرے میں چار پردیسی دوست رہتے تھے۔ چاروں الگ الگ شہروں سے تھے لیکن پردیس کی تنہائی نے انہیں سگے بھائیوں سے بڑھ کر بنا دیا تھا۔ ان کا ایک سنہرا اصول تھا کہ چاہے زمین آسمان ایک ہو جائے  وہ رات کا کھانا ہمیشہ ایک ساتھ دسترخوان پر بیٹھ کر کھائیں گے۔

اس کمرے کے ایک کونے میں  دروازے کے بالکل پاس ایک پرانی لکڑی کی کرسی رکھی تھی جو ہمیشہ خالی رہتی تھی۔ کوئی بھی اس پر نہیں بیٹھتا تھا  ایک دن کمرے میں ایک نئے آنے والے ساتھی نے حیرت سے پوچھا  یار! یہ کرسی تم لوگوں نے یہاں کیوں رکھی ہے؟ نہ تم اس پر بیٹھتے ہو  نہ اس پر سامان رکھتے ہو  اسے یہاں سے ہٹا کیوں نہیں دیتے؟ 

​کمرے کے سب سے سمجھدار ساتھی نے مسکرا کر جواب دیا:

کمرے میں موجود خالی کرسی کے پاس بیٹھے پردیسی دوست - © sagarpardesi.com

بھائی! یہ کرسی ہم نے اپنے غصے اور انا  کے لیے رکھی ہے۔ 

​اس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا  دیکھو  ہم سب دن بھر باہر لوگوں کی تلخیاں سنتے ہیں  گرمی میں تپتے ہیں اور تھکن سے چور ہو کر آتے ہیں  ہم نے یہ طے کیا ہے کہ جو بھی کمرے میں داخل ہوگا  وہ اپنا سارا غصہ اور باہر کی تمام جھنجھلاہٹ اس  خالی کرسی پر چھوڑ کر اندر آئے گا۔ اس کرسی کے اس پار ہم صرف مجبور پردیسی بھائی ہیں  جن کا ایک دوسرے کے سوا کوئی سہارا نہیں ہے  ہم نہیں چاہتے کہ باہر کی کڑواہٹ ہمارے اس چھوٹے سے ٹھکانے کا سکون برباد کر دے۔ 

​اس دن کے بعد اس کمرے میں کبھی اونچی آواز میں بات نہیں ہوئی۔ وہ لکڑی کی بے جان کرسی ان کے سکون کی پہرہ دار بن گئی تھی۔

حاصلِ کلام 

اس تحریر سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ زندگی میں اکثر ہم سے ایک بہت بڑی غلطی ہوتی ہے  ہم کسی ایک کا غصہ دوسروں پر اتارتے ہیں اور اپنے گھر یا اپنے روم کا ماحول خراب کرتے ہیں۔ باہر سڑک پر، دفتر میں یا کسی اجنبی سے ملنے والی تلخی کا بدلہ ہم اپنے ان ساتھیوں اور پیاروں سے لیتے ہیں جن کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔ صرف اس لیے کہ وہ ہمارے اپنے ہیں اور ہمیں پتہ ہے کہ وہ ہمیں پلٹ کر جواب نہیں دیں گے۔ پردیس میں کمرے تو چھوٹے ہو سکتے ہیں  لیکن اگر ہم اپنے ظرف بڑے کر لیں اور دوسروں کا غصہ اپنوں پر نکالنا چھوڑ دیں  تو وہی کمرے اور گھر جنت بن جاتے ہیں۔

خالی کرسی کے گرد مسکراتے اور ہنستے ہوئے پردیسی ساتھی - © sagarpardesi.com

آپ کی دعاؤں کا طلبگار، ساگر پردیسی                                                       

Comments

  1. ماشاءاللہ جی پڑھ کر دل خوش ہو گیا اور کچھ اداسی بھی ہوئی کہ واقعی ہی پردیس میں رہنا بہت مشکل ہے اللہ تعالی اپ کو کامیاب کرے ہماری دل سے دعا ہے اور ہمارے لیے بھی اپ دعا کرتے رہیں

    ReplyDelete
  2. ماشاءاللہ بہت ہی عمدہ خیالات ہیں اللہ تعالیٰ سب پردیسی بھائیوں کی حفاظت فرمائے

    ReplyDelete
  3. ماشاءاللہ جی ماشاءاللہ بہت اچھا اپ نے لکھا ہے اللہ پاک اپ کو کامیاب تھی اور اپ کو بہت ساری کامیابیاں دی ہمیں ان سے مانگی

    ReplyDelete
  4. ماشاءاللہ بہت اچھا لکھا ہے اپ کو اللہ پاک

    ReplyDelete
  5. ماشاءاللہ جی بہت کمال لکھا ہے اللہ پاک اپ کو بہت ساری کامیابیاں عطا فرمائے امین ثمماشاءاللہ جی بہت کمال لکھا ہے اللہ پاک اپ کو بہت ساری کامیابیاں عطا فرمائے امین ثم ام

    ReplyDelete
  6. Bht acha likha ha AP ne MashaAllah ❤️

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

The Secret of Peace | Best Life Quotes

​ Welcome to Sagar Pardesi's World | خوش آمدید: ساگر پردیسی کی قلمی دنیا میں

رشتہ داروں کا ڈرامہ اور پردیسی کا درد

وطن واپسی کا سفر اور پرانی یادیں