Welcome to Sagar Pardesi's World | خوش آمدید: ساگر پردیسی کی قلمی دنیا میں
پردیس میں انسان صرف پیسہ کمانے نہیں آتا بلکہ وہ یہاں روزانہ اپنی انا اپنے جذبات اور اپنی خواہشات کی قربانی بھی دیتا ہے وطن سے دور اپنوں کی یادوں کے سہارے جینا کتنا مشکل ہے یہ صرف ایک پردیسی ہی سمجھ سکتا ہے۔ آج میں آپ کو اپنے قیامِ پردیس کے دوران پیش آنے والا ایک ایسا واقعہ سناتا ہوں جس نے میری زندگی کی سوچ بدل دی۔
ایک چھوٹے سے کمرے میں چار پردیسی دوست رہتے تھے۔ چاروں الگ الگ شہروں سے تھے لیکن پردیس کی تنہائی نے انہیں سگے بھائیوں سے بڑھ کر بنا دیا تھا۔ ان کا ایک سنہرا اصول تھا کہ چاہے زمین آسمان ایک ہو جائے وہ رات کا کھانا ہمیشہ ایک ساتھ دسترخوان پر بیٹھ کر کھائیں گے۔
اس کمرے کے ایک کونے میں دروازے کے بالکل پاس ایک پرانی لکڑی کی کرسی رکھی تھی جو ہمیشہ خالی رہتی تھی۔ کوئی بھی اس پر نہیں بیٹھتا تھا ایک دن کمرے میں ایک نئے آنے والے ساتھی نے حیرت سے پوچھا یار! یہ کرسی تم لوگوں نے یہاں کیوں رکھی ہے؟ نہ تم اس پر بیٹھتے ہو نہ اس پر سامان رکھتے ہو اسے یہاں سے ہٹا کیوں نہیں دیتے؟
کمرے کے سب سے سمجھدار ساتھی نے مسکرا کر جواب دیا:
بھائی! یہ کرسی ہم نے اپنے غصے اور انا کے لیے رکھی ہے۔
اس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا دیکھو ہم سب دن بھر باہر لوگوں کی تلخیاں سنتے ہیں گرمی میں تپتے ہیں اور تھکن سے چور ہو کر آتے ہیں ہم نے یہ طے کیا ہے کہ جو بھی کمرے میں داخل ہوگا وہ اپنا سارا غصہ اور باہر کی تمام جھنجھلاہٹ اس خالی کرسی پر چھوڑ کر اندر آئے گا۔ اس کرسی کے اس پار ہم صرف مجبور پردیسی بھائی ہیں جن کا ایک دوسرے کے سوا کوئی سہارا نہیں ہے ہم نہیں چاہتے کہ باہر کی کڑواہٹ ہمارے اس چھوٹے سے ٹھکانے کا سکون برباد کر دے۔
اس دن کے بعد اس کمرے میں کبھی اونچی آواز میں بات نہیں ہوئی۔ وہ لکڑی کی بے جان کرسی ان کے سکون کی پہرہ دار بن گئی تھی۔
اس تحریر سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ زندگی میں اکثر ہم سے ایک بہت بڑی غلطی ہوتی ہے ہم کسی ایک کا غصہ دوسروں پر اتارتے ہیں اور اپنے گھر یا اپنے روم کا ماحول خراب کرتے ہیں۔ باہر سڑک پر، دفتر میں یا کسی اجنبی سے ملنے والی تلخی کا بدلہ ہم اپنے ان ساتھیوں اور پیاروں سے لیتے ہیں جن کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔ صرف اس لیے کہ وہ ہمارے اپنے ہیں اور ہمیں پتہ ہے کہ وہ ہمیں پلٹ کر جواب نہیں دیں گے۔ پردیس میں کمرے تو چھوٹے ہو سکتے ہیں لیکن اگر ہم اپنے ظرف بڑے کر لیں اور دوسروں کا غصہ اپنوں پر نکالنا چھوڑ دیں تو وہی کمرے اور گھر جنت بن جاتے ہیں۔
آپ کی دعاؤں کا طلبگار، ساگر پردیسی
ماشاءاللہ جی پڑھ کر دل خوش ہو گیا اور کچھ اداسی بھی ہوئی کہ واقعی ہی پردیس میں رہنا بہت مشکل ہے اللہ تعالی اپ کو کامیاب کرے ہماری دل سے دعا ہے اور ہمارے لیے بھی اپ دعا کرتے رہیں
ReplyDeleteماشاءاللہ بہت ہی عمدہ خیالات ہیں اللہ تعالیٰ سب پردیسی بھائیوں کی حفاظت فرمائے
ReplyDeleteماشاءاللہ جی ماشاءاللہ بہت اچھا اپ نے لکھا ہے اللہ پاک اپ کو کامیاب تھی اور اپ کو بہت ساری کامیابیاں دی ہمیں ان سے مانگی
ReplyDeleteماشاءاللہ بہت اچھا لکھا ہے اپ کو اللہ پاک
ReplyDeleteماشاءاللہ جی بہت کمال لکھا ہے اللہ پاک اپ کو بہت ساری کامیابیاں عطا فرمائے امین ثمماشاءاللہ جی بہت کمال لکھا ہے اللہ پاک اپ کو بہت ساری کامیابیاں عطا فرمائے امین ثم ام
ReplyDeleteBht acha likha ha AP ne MashaAllah ❤️
ReplyDelete