Welcome to Sagar Pardesi's World | خوش آمدید: ساگر پردیسی کی قلمی دنیا میں
ہم انسان بھی کتنے عجیب اور نادان ہیں، ہم اکثر زندگی کو ایک معمولی سی عادت سمجھ لیتے ہیں، اور اس سے جڑے رشتوں کو ایسے جیسے وہ پتھر کی لکیر ہوں، جو کبھی نہیں مٹیں گے۔ ہم ان کی موجودگی کو ہوا کی طرح سمجھتے ہیں، جو ہر وقت اردگرد موجود ہے، لہٰذا ہم اس کی قدر کرنا بھول جاتے ہیں۔ ہم ان لوگوں کی موجودگی میں ان کی محبتوں کو ایک بوجھ یا "فرض" سمجھ کر نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔
جیتے جی خاموشی، مرنے کے بعد شور
کتنا بڑا المیہ ہے یہ کہ جب تک وہ شخص زندہ ہوتا ہے، ہمارے پاس اس کی بات سننے کا وقت نہیں ہوتا۔ وہ شخص، جو ہماری زندگی کے ہر چھوٹے بڑے پل میں شامل ہوتا ہے، ہم اس کی موجودگی کو ایک پس منظر (Background) کی طرح مان لیتے ہیں۔ وہ جب ہمیں آواز دیتا ہے، ہم سرسری سا جواب دے کر گزر جاتے ہیں۔ جب وہ اپنی تنہائی بانٹنا چاہتا ہے، ہم اپنے کاموں میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ جب وہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر کچھ وقت گزارنا چاہتا ہے، تو ہم اسے "بعد میں" کہہ کر ٹال دیتے ہیں۔ وہ ہماری چھوٹی چھوٹی تلخیوں کو برداشت کرتا ہے، ہمارے لہجوں کی چبھن سہتا ہے، اور خاموشی سے اپنی محبت کے چراغ جلاتا رہتا ہے۔
پھر ایک دن... زندگی کا سفر اچانک رک جاتا ہے۔ وہ شخص، جو کل تک ہمارے گھر کے کسی کونے میں موجود تھا، اب صرف ایک یاد بن کر رہ جاتا ہے۔ اور تب شروع ہوتا ہے وہ کرب، وہ پچھتاوا جو روح کو چھلنی کر دیتا ہے۔
کفن میں لپٹی ہوئی یادیں اور ضمیر کا ماتم
جب وہ شخص خاموش ہو جاتا ہے، تب ہمیں اس کی آواز کی شدت محسوس ہوتی ہے۔ جب وہ کمرہ خالی ہو جاتا ہے، تب اس کی موجودگی کا احساس ایک بوجھ بن کر سینے پر آ گرتا ہے۔ ہم اس کی قبر پر جا کر بیٹھتے ہیں، مٹی کے ڈھیر کو ہاتھ لگاتے ہیں اور اپنی آنکھوں سے وہ آنسو بہاتے ہیں جن کی قیمت اب صفر ہو چکی ہے۔
ہم ان چیزوں کو چومتے ہیں جو اس نے استعمال کی ہوتی ہیں۔ ہم ان پیغامات کو بار بار پڑھتے ہیں جنہیں ہم نے کبھی پڑھنے کی زحمت نہیں کی تھی۔ ہم دنیا کو یہ بتانے کے لیے کہ ہم کتنے غمگین ہیں، ان کی تصویریں لگاتے ہیں، افسوس بھرے اسٹیٹس اپ ڈیٹ کرتے ہیں اور اپنی انا کو تسلی دیتے ہیں کہ "دیکھو، ہم کتنا پیار کرتے تھے"۔ لیکن حقیقت میں ہم اس وقت اس شخص کے لیے نہیں، بلکہ اپنے "ضمیر" کے لیے رو رہے ہوتے ہیں۔ ہم اس لیے نہیں رو رہے ہوتے کہ وہ ہمیں چھوڑ گیا، بلکہ اس لیے رو رہے ہوتے ہیں کہ ہم نے وقت رہتے اسے وہ عزت، وہ توجہ اور وہ محبت نہیں دی جس کا وہ حقدار تھا۔
ہم روتے ہیں کیونکہ اب وہ ہمارے سامنے نہیں ہے کہ ہم اسے گلے لگا کر کہہ سکیں، "مجھے معاف کر دو، میں نے تمہیں بہت نظر انداز کیا"۔ اب وہ ہم سے بہت دور ہے، جہاں ہماری چیخیں، ہماری ندامت اور ہمارے آنسو اسے نہیں پہنچ سکتے۔

محبت کا اظہار وقت سے کرو، آنسوؤں سے نہیں
آج جو لوگ آپ کے پاس ہیں، چاہے وہ آپ کے والدین ہوں، آپ کا شریکِ حیات ہو، یا آپ کے وہ دوست جو آپ کے دکھ سکھ کے ساتھی ہیں، یاد رکھیں کہ یہ سب ایک عارضی امانت ہیں۔ یہ جو آپ کی آواز پر پلٹ کر دیکھتے ہیں، یہ جو آپ سے بات کرنے کے لیے وقت نکالتے ہیں، یہ کتنا بڑا اعزاز ہے!
کسی کے چلے جانے کے بعد ان کی قبروں پر گلاب بچھانے سے بہتر ہے کہ جیتے جی ان کے گھر کے راستوں پر پھول بچھائے جائیں۔ کسی کے مرنے کے بعد ان کی تصویروں پر ہار چڑھانے سے بہتر ہے کہ جیتے جی ان کے چہرے پر ایک مسکراہٹ بکھیر دی جائے۔ زندگی بہت بے رحم ہے، یہ کسی کا انتظار نہیں کرتی۔ ایک بار وقت ہاتھ سے نکل جائے، تو پھر انسان صرف پچھتاوا لے کر رہ جاتا ہے۔
آخری بات: میت کے پاس جا کر خوب رو لینا تو دنیا کا آسان ترین کام ہے، کیونکہ تب آپ کو کچھ نہیں کرنا پڑتا۔ اصل بہادری اور اصل محبت تو یہ ہے کہ جو ابھی آپ کے پاس سانس لے رہے ہیں، ان کی اتنی قدر کریں، انہیں اتنا پیار دیں، کہ اگر کل وہ آپ سے بچھڑ بھی جائیں، تو آپ کو اپنے اندر پچھتاوے کا کوئی کانٹا نہ چبھے۔
اس تحریر کا حاصلِ کلام (خلاصہ) یہ ہے:
"محبت کا اظہار میت پر رونے سے نہیں، بلکہ جیتے جی ساتھ نبھانے سے ہوتا ہے۔"
اس کا مرکزی پیغام درج ذیل نکات پر مبنی ہے:
وقت کی قدر: جو لوگ آپ کے پاس ہیں، انہیں اپنی زندگی کی ترجیح بنائیں، کیونکہ رخصت ہونے کے بعد صرف پچھتاوا ہی باقی رہ جاتا ہے۔
ضمیر کا احتساب: کسی کے مرنے کے بعد رونا دراصل ہمارے اپنے ضمیر کا ماتم ہوتا ہے، کیونکہ ہم تب احساس کرتے ہیں جب سامنے والا اس محبت کو محسوس کرنے کے قابل نہیں رہتا۔
محبت کا اظہار: محبت صرف دل میں رکھنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے پیاروں کو وقت دینے، ان کی بات سننے اور انہیں احساس دلانے کا نام ہے کہ وہ ہمارے لیے کتنے اہم ہیں۔
پچھتاوے سے نجات: اگر ہم آج اپنے پیاروں کے ساتھ اچھا رویہ رکھیں گے تو کل ان کے بچھڑنے پر ہمیں خود کو کوسنا نہیں پڑے گا، کیونکہ ہم نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہوگی۔
مختصراً، یہ تحریر ہمیں "زندہ لوگوں کی قدر کرنے" اور "پچھتاوے سے بچنے کے لیے آج کے دن کو غنیمت جاننے" کی تلقین کرتی ہے۔
یہ تحریر آپ کو کیسی لگی؟ اپنی قیمتی رائے سے آگاہ ضرور کیجیے گا۔
فقط آپ کی دعاؤں کا طلبگار، پردیسی۔
So nice story Sagar Pradesh
ReplyDelete