Welcome to Sagar Pardesi's World | خوش آمدید: ساگر پردیسی کی قلمی دنیا میں
گھر کی دہلیز پر رخصتی کا وہ لمحہ آتا ہے، تو وقت جیسے تھم جاتا ہے۔ سانسیں سینے میں اٹکنے لگتی ہیں اور دل کی دھڑکنیں اتنی تیز ہو جاتی ہیں کہ محسوس ہوتا ہے جیسے ابھی باہر نکل آئیں گی۔ کلیم اللہ جب اپنے وطن سے پردیس کے لیے روانہ ہوئے، تو وہ منظر کسی قیامت سے کم نہیں تھا۔ اس رخصتی کے ہجوم میں کوئی ایک شخص نہیں رو رہا تھا، بلکہ پورا گھرانہ آنسوؤں کے اتنے بڑے سمندر میں ڈوبا ہوا تھا جس کا کوئی کنارہ نہ تھا۔ گھر سے باہر نکلتے وقت بوڑھے ماں باپ کے لرزتے اور کانپتے ہوئے ہاتھ اٹھے، جنہوں نے دعاؤں بھرا ہاتھ بیٹے کے سر پر رکھا تو ان کی جھریاں زدہ آنکھوں سے نکلنے والے آنسو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ ماں کی سسکیاں گلے میں اس طرح پھنسی ہوئی تھیں کہ آواز ہی بند ہو چکی تھی، اور والد کی پیشانی پر بیٹھے بیٹے کی جدائی کا وہ گہرا غم صاف عیاں تھا جسے الفاظ کی قید میں لایا ہی نہیں جا سکتا۔ بہن بھائیوں کے چہرے غم کے مارے بالکل زرد پڑ چکے تھے، اور جب بھائیوں نے گلے سے لگایا تو دل کے تمام تار اندر تک ہل کر رہ گئے۔ اپنوں سے بچھڑنے کا یہ جان لیوا روگ انسان کو اندر سے بالکل کھوکھلا کر دیتا ہے اور روح کو ہمیشہ کے لیے اداس کر جاتا ہے۔
مگر اس بچھڑے ہوئے اور اجڑے ہوئے ماحول کا سب سے زیادہ دل چیر دینے والا اور المناک حصہ وہ تھا جب کلیم اللہ کی شریکِ حیات اور ان کے معصوم بچے پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے۔ گھر میں سب سے بڑی بیٹی، پھر ان کا پیارا بیٹا، اور اس کے بعد سب سے چھوٹی بیٹی—تینوں معصوم بچے اپنے باپ کے سینے سے لپٹ کر اس طرح زار و قطار رو رہے تھے کہ پتھر دل بھی موم ہو کر پگھل جائے۔ بچوں کی وہ دردناک ہچکیاں اور ان کی معصوم فریادیں کلیم اللہ کے سینے میں کسی تیز دھار خنجر کی طرح پیوست ہو رہی تھیں۔ بیوی کی آنکھوں سے مسلسل بہتے ہوئے آنسو اور بے بس سسکیاں اس پورے ماحول کو اور بھی زیادہ غمگین اور بوجھل بنا رہی تھیں۔ وہ چاہ کر بھی اپنے خود کے ضبط کو قائم نہیں رکھ پا رہے تھے اور ان کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہو گئے، کیونکہ اپنوں کو چھوڑ کر جانے کا یہ ہولناک کرب صرف وہی بدقسمت انسان جان سکتا ہے جو اس آگ اور کڑے امتحان سے گزرتا ہے۔ اس لمحے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انسان کی زندگی کا سارا سکون اور روشنی کہیں ہمیشہ کے لیے چھن گئی ہو۔
مگر پیٹ کی آگ، زندگی کی تلخ اور بے رحم سچائیاں، گھر کی بڑی ذمہ داریوں کا بھاری پہاڑ اور ان معصوم بچوں کے روشن اور محفوظ مستقبل کی خاطر ایک انسان کو اپنوں سے ہزاروں میل دور یہ کٹھن، تنہا اور کانٹوں سے بھرا ہوا راستہ چننا ہی پڑتا ہے۔ یہ مجبوری انسان کو دنیا کے ہر غم اور تکلیف کو خاموشی سے پی جانے پر مجبور کر دیتی ہے۔
آج کلیم اللہ سعودی عرب کی اس اجنبی اور بے روح زمین پر قدم رکھ چکے ہیں، لیکن یہاں پردیس کی تلخ حقیقت اس بچھڑے ہوئے گھر کے منظر سے بھی کئی گنا زیادہ تکلیف دہ اور بے رحم ہے۔ ابھی نہ تو ان کا کمرہ پوری طرح سے جم پایا ہے، نہ سامان کی ترتیب ہوئی ہے اور نہ ہی وہ باقاعدہ کسی ڈیوٹی پر شفٹ ہوئے ہیں۔ چاروں طرف اجنبی دیواریں، کمرے میں بے ترتیب بکھرا ہوا سامان اور مستقبل کے حوالے سے ایک گہری اور خوفناک خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ اس بے پناہ تنہائی اور بے بسی کے عالم میں جب وہ اکیلے خاموش بیٹھتے ہیں، تو ان کے کانوں میں بار بار بوڑھے ماں باپ کی وہ لرزتی ہوئی دعائیں، بہن بھائیوں کی محبت بھری باتیں اور ان کے معصوم بچوں کی وہ روتی ہوئی سسکیاں گونجنے لگتی ہیں۔ دل بار بار چیخ کر یہ کہتا ہے کہ سب کچھ اس ادھوری حالت میں چھوڑ کر واپس اپنے گھر کی طرف پلٹ جائیں، مگر پیچھے... ذمہ داریوں کی مضبوط اور لوہے کی زنجیریں اتنی بھاری ہوتی ہیں کہ قدموں کو آگے بڑھنے پر مجبور کر دیتی ہیں اور واپسی کا ہر راستہ مستقل طور پر بند کر دیتی ہے۔
پردیس کی یہ روتی ہوئی شروعات، یہ بے آرامی، یہ بے گھری اور یہ کٹھن دن صرف کلیم اللہ کی ہی ذاتی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ دنیا کے ہر اس مسافر اور پردیسی کی سچی اور روح فرسا کہانی ہے جو اپنے گھر والوں اور اپنوں کے چہرے پر صرف ایک چھوٹی سی مسکراہٹ لانے کے لیے خود اندر سے مکمل طور پر ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ کہانی ہمیں بار بار یہ یاد دلاتی ہے کہ پردیسی صرف ایک عام مسافر یا راہی نہیں ہوتا، بلکہ اپنوں کی خاطر اپنی تمام جوانی، خوشیاں اور ارمان قربان کرنے والا ایک ایسا خاموش سپاہی ہوتا ہے جو روزانہ تنہائی کے تاریک اندھیروں میں سینکڑوں جنگیں اکیلا لڑتا ہے اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہونے دیتا۔
آپ کی دعاؤں کا طلبگار: ساگر پردیسی
Comments
Post a Comment