رشتہ داروں کا ڈرامہ اور پردیسی کا درد شہروں کے فاصلے تو مُپ جاتے ہیں، مگر رشتوں کے درمیان بننے والی یہ "ڈرامائی دیواریں" اتنی گہری اور پیچیدہ ہوتی ہیں کہ ان کی پیمائش ممکن ہی نہیں ہوتی۔ زندگی کے سفر میں بندہ کتنی ہی میل کیوں نہ طے کر لے، جب تک رشتوں کا سفر ایمانداری سے نہ ہو، پتہ ہی نہیں چلتا کہ ہم منزل پر کھڑے ہیں یا راہ بھٹک چکے ہیں۔ آج کل ہر گھر میں کچھ ایسے رشتہ دار ضرور ہوتے ہیں جو محبت کے لبادے میں مفاد کی سیاست کر رہے ہوتے ہیں۔ سب سے تکلیف دہ پہلو وہ "جھوٹا بیانیہ" ہے جس میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ "ہم نے تو تم میں اور اپنے سگے بہن بھائیوں میں کبھی کوئی فرق نہیں کیا"۔ سچ تو یہ ہے کہ جو لوگ بار بار یہ جتلانے پر مجبور ہوں، اصل میں وہی فرق کی بنیاد رکھ رہے ہوتے ہیں۔ یہ جملہ دراصل ایک ڈھال ہے، جس کے پیچھے چھپ کر وہ آپ کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا چاہتے ہیں۔ دراصل بات یہ ہے کہ جب تک آپ حق کی بات نہیں کرتے اور ان کی ہر "ہاں" میں "ہاں" اور "جی" میں "جی" ملاتے رہو گے، تب تک آپ ان کے لیے سب سے پیارے ہو۔ لی...
پردیس میں حج کے ایام: ہماری خاموش قربانی، دیس کی یادیں اور عید کی نماز ذوالحجہ کا چاند نظر آتے ہی فضا میں ایک عجیب سی روحانیت بکھر جاتی ہے۔ یہاں سعودی عرب میں، جہاں ہم مقیم ہیں، حج کے ان بابرکت دنوں کی ایک الگ ہی کیفیت ہے۔ مکہ مکرمہ کی طرف جانے والے قافلوں کی گونج اور ہر طرف چھائی ہوئی ایک خاص خاموشی، دل کو عجیب سے احساس میں مبتلا کر دیتی ہے۔ لیکن ہم پردیسیوں کے لیے یہ دس دن، عیدِ قربان کی آمد کا احساس ایک ایسا طوفان لے کر آتے ہیں جو ہمارے اندر کی ساری یادوں کو جگا دیتے ہیں۔ ہماری آنکھیں جب بند ہوتی ہیں، تو ہمیں یہاں کی سڑکیں نہیں، بلکہ اپنے دیس کی وہ گلیاں نظر آتی ہیں جہاں عید سے کئی دن پہلے ہی رونق شروع ہو جاتی ہے۔ وہ گلیوں میں بندھے ہوئے جانوروں کا شور، ان کے چبانے کی آوازیں، اور وہ معصوم بچوں کی خوشی جو نئے کپڑے پہن کر بکروں کو گھاس ڈالنے کے لیے ایک دوسرے سے بازی لے جاتے ہیں۔ وہ منظر، جب گھر کے صحن میں قربانی کی تیاریاں ہو رہی ہوتی ہیں، چھریوں کی دھار تیز کرنے کی آوازیں، اور بچوں کا وہ بے ساختہ شور و غل جو پورے محلے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ وہ سب کچھ کتنا حسیں اور کتنا پر...
السلام علیکم تمام قارئین کو ہماری اس ڈیجیٹل دنیا میں خوش آمدید۔ میرا نام حنیف ہے اور ادبی دنیا میں لوگ مجھے ساگر پردیسی کے نام سے جانتے ہیں۔ آج سے ہم اپنے اس تحریری سفر کا باقاعدہ آغاز کر رہے ہیں۔ یہاں آپ کو ہماری لکھی ہوئی مختلف تحریریں، مشاہدات اور زندگی کے بارے میں خیالات پڑھنے کو ملیں گے۔ ہمارا مقصد اپنی تحریروں کے ذریعے انسانی جذبات، سفر کی حقیقتوں اور معاشرے کے ان پہلوؤں کو سامنے لانا ہے جو اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ یہ تحریری سفر محض الفاظوں کا مجم عہ نہیں، بلکہ ہمارے احساسات کا ایک آئینہ ہے۔ امید ہے کہ ہمارا یہ سفر آپ سب کے لیے دل چسپ ثابت ہوگا۔ آپ کی رائے اور کمنٹس کا ہمیں ہمیشہ انتظار رہے گا تاکہ اس سفر کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ آپ سب کی دعاؤں کا طلبگار، ساگر پردیسی Assalam-o-Alaikum! Tamam qarieen ko hamari is digital duniya mein khush amdeed . Mera naam Hanif hai aur adabi duniya mein log mujhe Sagar Pardesi ke naam se jaante hain. Aaj se hum apne is tahreeri safar ka baqaida aaghaz kar rahe hain. Yahan aap ko hamari likhi hui mukhtalif tehreer...
Comments