​ Welcome to Sagar Pardesi's World | خوش آمدید: ساگر پردیسی کی قلمی دنیا میں

Image
اردو Roman Urdu English خوش آمدید! السلام علیکم تمام قارئین! ہماری اس ڈیجیٹل دنیا میں آپ کو خوش آمدید ۔ میرا نام حنیف ہے اور ادبی دنیا میں لوگ مجھے ساگر پردیسی کے نام سے جانتے ہیں۔ آج سے ہم اپنے اس تحریری سفر کا باقاعدہ آغاز کر رہے ہیں۔ ہماری یہ کوشش ہوگی کہ یہاں آپ کو تمام تحریریں اردو، رومن اردو اور انگلش تینوں زبانوں میں پڑھنے کو ملیں، تاکہ ہر قاری اپنی پسندیدہ زبان میں ہمارے خیالات سے لطف اندوز ہو سکے۔ یہاں آپ کو ہمارے لکھے ہوئے مختلف مشاہدات، دل کو چھو لینے والی شاعری، شاندار اسٹیٹس اور زندگی کے بارے میں گہرے خیالات ملیں گے۔ ہمارا مقصد اپنی تحریروں کے ذریعے انسانی جذبات، سفر کی حقیقتوں اور معاشرے کے ان پہلوؤں کو سامنے لانا ہے جو اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ یہ تحریری سفر محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ہمارے احساسات کا ایک آئینہ ہے۔ امید ہے کہ ہمارا یہ سفر آپ سب کے لیے دل چسپ ثابت ہوگا۔ آپ کی رائے اور تبصروں کا ہمیں ہمیشہ ان...

وطن واپسی کا سفر اور پرانی یادیں


ایک شخص گھر کے درخت کے نیچے بنچ پر بیٹھ کر پرانی تصویروں کا البم دیکھ رہا ہے © sagarpardesi.com

پردیس سے دیس کی جانب یادوں کا طواف

سعودی عرب کی ان طویل اور خاموش شاہراہوں پر جب میں گاڑی چلاتا ہوں، تو اکثر سوچتا ہوں کہ یہ سفر صرف کلومیٹر طے کرنے کا نہیں، بلکہ ایک ایسی واپسی ہے جس کی تڑپ ہر لمحہ میرے ساتھ رہتی ہے۔ اب جبکہ پاکستان جانے کا وقت قریب ہے، تو دل میں ایک عجیب سا سکون ہے۔ یہ سفر میری زندگی کا ایک اہم پڑاؤ ہے، اپنی جڑوں کی طرف واپسی کا ایک طواف۔

آبائی گاؤں اور والدین کی یادیں
اپنے آبائی گاؤں کی طرف بڑھتے ہوئے، ذہن کے دریچوں میں وہ گلیاں ابھرنے لگتی ہیں جہاں ہمارا بچپن گزرا۔ وہاں کی فضا، وہ مٹی اور وہ ماحول، جہاں ماں کی دعاؤں کا سایہ ہوتا تھا اور باپ کی شفقت ہمارے سروں پر قائم تھی۔ وہ آج اس دنیا میں موجود نہیں، لیکن ان کی دی ہوئی تربیت اور ان کے بنائے ہوئے اصول آج بھی میرے ساتھ سفر کرتے ہیں۔ وہ گھر صرف اینٹ پتھر کی عمارت نہیں، بلکہ ان کی یادوں کا امین ہے، جہاں ہر کونے میں ان کی موجودگی کا احساس اب بھی زندہ ہے۔

نسلوں کا سفر: 
کل ہم تھے، آج ہمارے بچے ہیں
اس سفر کا ایک پہلو یہ ہے کہ اب ہمارا گھر خالی نہیں ہے۔ جہاں کبھی ہم بہن بھائی اپنے والدین کی نگرانی میں کھیلا کرتے تھے، آج وہیں ہمارے بچے اور ہمارے بہن بھائیوں کے بچے کھیل رہے ہیں۔ ان کی ہنسی اور شور میں مجھے اپنا بچپن دکھائی دیتا ہے۔ یہ دیکھ کر عجیب سا سکون ملتا ہے کہ زندگی کا یہ سفر کیسے آگے بڑھ رہا ہے۔ جس طرح ہمارے والدین نے ہمیں اپنی شفقت کے سائے میں پالا، آج ہم اور ہمارے بہن بھائی اپنے بچوں کو وہی پیار دے رہے ہیں۔ یہ منظر میرے لیے کسی تحفے سے کم نہیں کہ جہاں کل ہم تھے، آج وہاں ہماری اگلی نسل پروان چڑھ رہی ہے۔

ماں باپ کی اصل شان:
بہن بھائی
لوگوں کے لیے نشانیاں شاید وہ مادی چیزیں ہوں جو والدین چھوڑ جاتے ہیں، لیکن میرے لیے میرے ماں باپ کی اصل شان اور ان کی زندہ نشانیاں میرے بہن بھائی ہیں۔ جب میں اپنے بھائیوں کے چہروں میں دیکھتا ہوں، یا اپنی بہنوں کی باتوں میں اپنے والدین کا لہجہ محسوس کرتا ہوں، تو مجھے لگتا ہے کہ وہ کہیں گئے ہی نہیں۔ ان کا انداز اور ہمارا باہمی پیار دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ میرے والدین کی عظمت آج بھی ہمارے گھر میں زندہ ہے۔ وہ میرے والدین کی وہ عظیم امانت ہیں جنہیں سنبھالنا میرا فرض ہے اور جن پر مجھے فخر ہے۔

ایک شخص قبرستان میں اپنے اپنوں کی قبروں پر دعا مانگ رہا ہے © sagarpardesi.com
والدین کی قبروں پر حاضری
اس سفر میں ایک اہم پڑاؤ میرے والدین کی قبروں پر حاضری ہے۔ میں وہاں جا کر ان کے لیے دعا کروں گا، فاتحہ پڑھوں گا اور ان کی دی ہوئی اقدار کو زندہ رکھنا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ یہ حاضری صرف ایک رسم نہیں، بلکہ ان سے ایک خاموش مکالمہ ہے، ان کی تربیت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ وہاں بیٹھ کر میں یہ محسوس کروں گا کہ ان کا سایہ آج بھی مجھ پر قائم ہے۔

ساگر پردیسی کا عزم
جب میں جہاز کی کھڑکی سے نیچے اپنے ملک کے کھیتوں کو دیکھوں گا، تو مجھے وہ سب چہرے یاد آئیں گے جن کے لیے میں نے یہ برسوں کی مسافتیں طے کیں۔ "ساگر پردیسی" کے لیے یہ واپسی ان جذباتی رشتوں کو مضبوط کرنے کا سفر ہے جن کی بنیاد میرے والدین نے رکھی تھی۔ یہ سفر میری جڑوں کی طرف واپسی کا ذریعہ ہے، جہاں مجھے اپنے والدین کا عکس اپنے بہن بھائیوں میں نظر آئے گا اور ان کی دعائیں مجھے اپنے دیس میں استقبال کرتی محسوس ہوں گی۔

یک شخص ہوائی جہاز میں بیٹھ کر اپنے وطن واپسی کا سفر کر رہا ہے © sagarpardesi.com
آخر میں یہ ایک دعا 
میری دل سے یہ دعا ہے کہ جن کے ماں باپ اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور جن کے والدین حیات ہیں، اللہ تعالیٰ ان کا سایہ اپنے بچوں کے سروں پہ قائم اور دائم رکھے۔ آمین۔

فقط آپ کی دعاؤں کا طلبگار، ساگر پردیسی

Comments



  1. *U are going to Pakistan after two years to meet my family and children. May Allah grant you the chance to go to Pakistan and experience the happiness there. The story you share on the map is very beautiful.*

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

The Secret of Peace | Best Life Quotes

​ Welcome to Sagar Pardesi's World | خوش آمدید: ساگر پردیسی کی قلمی دنیا میں

رشتہ داروں کا ڈرامہ اور پردیسی کا درد